ٹاؤن پلاننگ اورجدید اربن پالیسی کی افادیت – Ukaaj.com | A great real estate is HERE !

ٹاؤن پلاننگ اورجدید اربن پالیسی کی افادیت

یہ دور وسائل اور ترقی کا دور ہے۔ہر کوئی زندگی کی اس دوڑ میں آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے۔بڑھتی آبادی اور لوگوں کا قصبوں سے شہروں کی طرف رحجان نے شہر کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں شہر کی پلاننگ کی اشد ضرورت ہے تاکہ شہر کو ایک خاص شکل دی جائے اور زمین کو بہترین طریقے سے استعمال کیا جاسکے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ ممکن ہے کہ2050 تک دنیا کے 3 ارب سے زائد لوگ شہروں میں منتقل ہوجائے۔

ٹاؤن پلاننگ کامطلب

شہر کی پلاننگ کرنا بھی ایک آرٹ ہے جس میں شہر کے وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے شہر کو خا ص ترتیب، شکل اور ضروریات کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔ پلاننگ ہر کام سے پہلے ضروری ہوتی ہے گھر بنانے، پلاٹ  خریدنے یا سرمایہ کاری کرنے سے پہلے وغیرہ۔یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ ہر طرز کا شہری اپنی ضروریا ت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ٹاؤن پلاننگ میں ٹاؤن کا نقشہ بنایا جاتا مثلا سڑکوں کا جال بچھانا،حکومتی بلڈنگز کی تعمیرات، پبلک پارکس کے لیے جگہ مختص کرنا، ہسپتال، تعلیمی اداروں اور رہائش کے لیے علاقوں کی نشاندہی  کرنے کو پلا نڈ کمیوینٹی کہتے ہیں۔

اگر ٹاؤن پلاننگ نہ کی جائے تو معاشرتی، معاشی اور موسمیاتی عوامل عدم توازن کا شکار ہوجائے۔  اس کے علاوہ اور بہت سے عناصر ہیں جو ٹاؤن اور شہر کی پلاننگ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔اس کے لیے آپ کو بلاگ مکمل پڑھنا ہوگا تاکہ آپ بھی پلاننگ اور اربن پالیسی کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

ماحولیات کے اثرات

ماحولیاتی تبدیلی ایک قدرتی عمل ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جیسا کہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہونا، سمندری تبدیلیاں وغیرہ اور ان سے بچنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئیے۔یہی وجہ ہے ہم ڈیمز اور پلائنڈ کمیونٹی کے نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب جیسی آفت سے اکثر دوچارہوتے ہیں۔اگر پلائنڈ کمیوینٹی بنائی جائے تو ہم کئی بڑی موسمیاتی تبدیلیوں سے بچ سکتے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ پر مثبت اثرات

اگر پلائنڈ کمیونٹی بنائی جائے تو رئیل اسٹیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوگے یعنی قیمتوں میں ایک ساتھ اضافہ ہونا اور لوگو ں کو ریٹرن آن انویسٹمنٹ کا یقین بھی ہوگا۔جس کی وجہ سے لوگ بلا خوف اس انڈسٹری میں سرمایہ کاری کریں گے۔ اس طرح یہ انڈسٹری وسیع ہوگی اور ملکی معیشت ترقی کرے گی۔

ایک جیسا طرز زندگی

اگر رہائش، تعلیمی ادارے اور کمرشل ایریے مخصوص کر دیے جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی طرز زندگی اور سوچوں کی تقسیم کو روکا جا سکتاہے۔ پلانڈ کمیونٹی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے زیادہ قریب آئے گئے اور ایک دوسرے سے اچھے طریقے سیکھے گئے۔اس کے علاوہ تمام لوگوں کو ایک جیسی سہولیات ملیں گی  اور ایک ہی معیار کی تعلیم فراہم کی جائے گی یوں شہری مل کر ملک کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرسکیں گئے۔

 مسائل کا حل،نیشنل اربن پالیسی اگر ہمارے ملک میں ایک متحرک اربن پالیسی ہوتی اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے ایک ٹیم بنائی جاتی جو شہریوں کی ضروریات کے مطابق زمین کو تقسیم کرتی۔اگر انفراسٹرکچر، کمرشل ایریا، رہائشی علاقے، اورپبلک جگہوں کو مخصو ص کیا گیا ہوتا تو شہروں میں بڑھتے رحجان کو روکا جا سکتاتھا۔ مگر افسوس اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ بغیر پلان کے ان گنت سوسائٹیز بنائی جارہی ہیں۔

Join The Discussion

Compare listings

Compare