2022-2021سالانہ بجٹ اور رئیل اسٹیٹ – Ukaaj.com | A great real estate is HERE !

2022-2021سالانہ بجٹ اور رئیل اسٹیٹ

Annual budget 2021-2022

ہر سال کی طرح اس سال بھی بجٹ کا انتظار سب کو تھا کیونکہ ہرشہری اس خیال میں ہوتاہے کہ شاید اس سال اس کے دن بدل جائے۔ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا اس امید سے ٹی وی یا موبائل پر نظریں جمائے رکھتے ہیں کہ ہوسکتا ہے اس سال آنے والابجٹ ہمارے لیے  فائدہ مند ہو۔ اس سال بھی بجٹ آنے کے بعد کچھ نے تو کافی شور کیا جبکہ کچھ نے کافی سراہا۔بجٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں جن کو پڑھنے کے بعد امید کر تے ہیں کہ آپ اپنی رائے کا اظہار کمونٹ بکس میں لازمی کریں  گے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 %اضافہ کی منظوری دی گئی۔

پنشن میں بھی 10 %فیصد اضافہ جبکہ 480  ارب مختص کئے گئے ہیں۔

تر قیاتی بجٹ 630 ارب سے بڑھ کر 900 ارب کر دیاگیا ہے۔

سالانہ ترقیاتی بجٹ پنجاب کا500 ارب، سندھ کا 310 ارب، بلوچستان کا133ارب اور کے پی کے،کے لیے 248 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ساوتھ بلوچستان کے 19 ترقیاتی  پروجیکٹ کے لیے  601 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پسماندعلاقوں کی ترقی کے لیے  100 ارب رکھے گئے ہیں۔

بجلی کے منصوبوں کے لیے   118ارب،سی پیک نئے  منصوبے کے لیے 28ارب ڈالر،داسو بائیڈ پاور منصوبے کے لیے57 ارب،نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ 14 ارب، مہند ڈیم 6 ارب،دفاع کے لیے 1370 ارب، پی آئی کے لیے 20 ارب اورپاکستان سٹیل ملز کے لیے 16 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

گوادر ائیر پورٹ اور ہائی وے کے لیے  244ارب مختص کئے گئے۔

کابینہ نے موبائل فونز پر بھی ٹیکس لگانے کی منظوری دے دی۔

صوبوں کو 25 فیصد اضافی رقم فراہم کریں گئے۔

سند ھ کو 12  ارب روپے کے خصوصی فنڈز دیئے جائے گے۔

بینک سے رقم نکلوانے اور اسٹاک مارکیٹ سے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیے جائے گے۔

سول حکومت کے انتظام کے لیے479 ارب مختص کیے جائے گئے۔

بجلی، گیس، کھانے پینے کی اشیاء سمیت تمام شعبوں کو سبسڈی ملے گی۔

ٰایک ارب 10  کروڑ ویکسین کی درآمد کے لیے خرچ کرینگے۔

کراچی میں کے ون کے فور اور تر بیلا منصوبے کے لیے 16 ارب مختص کرینگے۔

2022ء میں ہونے والی مردم شماری کے لیے5 ارب مختص کئے جائے گئے۔

850سی سی تک کی مقامی گاڑیوں پر فیڈرل  ایکسائز ڈیوٹی ختم

مقامی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں بھی کمی کا اعلان

سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کر دی گئی۔

ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 7909 ارب روپے مقرر ہوا۔

کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے کردی گئی۔

قرآن پاک کی اچھی کوالٹی کے آرٹ اور کاغذکی پرنٹینگ کی درآمد پہ چھوٹ۔

ہر شہری گھرانے کو کاروبار کرنے کے لیے  5 لاکھ  تک loan Interst free

 دیں گے۔

ہر کاشت کار کو کاشت کرنے کے لیے ہر فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ

  قرضے دیں گے۔

ٹریکٹروں اور مشینی امداد کے لیے دو لاکھ  روپے قرضے دیں گے۔  loan  Interest

ان سب  گھرانوں Low cost housing کی مد میں 20 لاکھ روپے تک سستے قرضے دیں گے تاکہ ہر شہری اپنا گھر بناسکیں۔

ہر گھرانے کو صحت کارڈ فراہم کیا جائےگا۔

ہر گھرانے کے ایک فرد    Technical training    کودی جائے گئ

  سپورٹ پروگرامز کے لیے 12 ارب مختص کئے گئے ہیں۔ SEM

احساس پروگرام کا آغاز کیا جائے گا جس کے تحت درج ذیل 12 پرگراموں کا آغاز کیا جارہا ہے جن میں کامیاب نوجوان، تحفظ، آمدن، بلاسود قر ضے، لنگر، نئے طرز کے ٹھیلے  اور راشن کارڈ وغیر ہ شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے ابھی تک 260 ارب مختص کیے گئے ہیں۔اس سے پہلے کبھی بھی مفلس طبقے کے لیے اتنی رقم خرچ نہیں کی گئی۔

ہاؤ سنگ سیکموں کے لیے ٹیکسوں میں رعایت کا ایک خاص قسم کا پیکج وضع کیا گیا۔

اس کے علاوہ حکومت کم آمدنی والوں کو اپنا گھر خرید نے یا بنانے کے لیے 3 لاکھ کی سبسڈی دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے بجٹ میں 33 ارب رکھے گئے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ کا مستقبل

پاکستان میں رہائشی مکانات کی کمی ایک کروڑ سے زائدہے جوکہ عام سی بات نہیں بلکہ ایک کڑوا سچ ہے کیونکہ گھر ہر خاندان کی بنیادی ضرورت ہے۔ماضی کے کچھ سالوں پر اگر روشنی ڈالیں تو ایک ہی گھر میں کئی افراد رہتے تھے لیکن آج لوگوں میں عدم برداشت اور ان کی سوچ کی وجہ سے کئی اختلاف جنم لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے سب اپنے ایک الگ گھر کی خواہش رکھتے ہیں۔چند سالوں میں ہم نے پاکستان میں کئی ہاوسنگ سیکمز اور سوسائٹیز کے رحجان کو بڑھتے دیکھا ہے۔ان کی وجہ سے پاکستان کا ایک خاص طبقہ گھر جیسی نعمت کو صحیح معنی میں سمجھ سکا ہے۔لیکن اس سال کے بجٹ کے آنے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ اب مفلس طبقہ بھی اپنا گھر بنا سکتا ہے۔موجودہ دور کے بجٹ کے آنے کے بعد، جہاں کئی شعبوں میں ترقی کے امکان بڑھے ہیں وہی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں اور عام شہری کے لیے بھی یہ بجٹ کافی فائدہ مند رہاہے۔

کم آمدنی والے شہری کو  20  لاکھ روپے کے سستے قرضے دینا، حکومت کا سب سے بہترین ٖ فیصلہ ہے اس سے رئیل اسٹیٹ اور شہری دونوں ترقی کے راستے پہ سفر کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ بے فضول ٹیکسوں کا ختم کر کے، عام شہری کی جیب کو اتنی اجازت دی گئی ہے کہ وہ جمع پونجی کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کر سکے۔عمران خان صاحب کا نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم کا متعارف کروانا بھی اس بات کا ثبوت تھا کہ اپنے گھر کی اہمیت اور ضرورت کیا ہوتی ہے۔اس وقت بھی لوگوں نے اس سکیم اور رئیل ا سٹیٹ کی طرف رخ کیا تھا اور کافی دلچسپی دیکھائی تھی۔اس سالانہ بجٹ میں بھی حکومت نے شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ شہری اور رئیل اسٹیٹ دونوں کے فائدے کی تجویز دی ہے۔  اس لحاظ سے اب ہم یقین سے کہتے ہیں کہ اب رئیل اسٹیٹ کا شعبہ مزید ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا اور اس کا مستقبل روشن ہوگا۔

Join The Discussion

Compare listings

Compare
Need Help? Chat with us