چھتوں پہ باغبانی اور اس کی ضرورت – Ukaaj.com | A great real estate is HERE !

چھتوں پہ باغبانی اور اس کی ضرورت

آپ کے پاس ایک باغ اور ایک لائبریری ہے تو آپ کے پاس اپنی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے

موجودہ دور میں ماحول کی آلودگی اور بڑھتی بیماریوں کی وجہ سے آج کے انسان کو باغبانی کی اہمیت کا اندازہ ہوا ہےاور  یہی وجہ ہے کہ دنیا کے چند ممالک جن میں کینڈا، فرانس اور سوئیزر لینڈ نے باقاعدگی سے قانون منظور کیا ہے کہ کمرشل ایریا اور گھروں کی چھتوں کے نصب  حصے پہ باغبانی کرنا لازمی ہے۔اگر آج ہم چھتوں پہ باغبانی کی بات کریں تویہ موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے۔گھر وں میں جگہ کم ہونے اور مہنگی جگہ ہونے کی وجہ سے اس پہ توجہ نہیں دی گئی مگر اب ضرورت ہے کہ پودوں اور پھولوں کو ہر گھر میں لگایا جائے۔

آلودگی کے لحاظ سے افغانستان، بنگلہ دیش، انڈیا،  منگولیا، پاکستان، چین اور لبنان وغیرہ شامل ہیں۔ٖفضائی آلودگی دنیا بھر میں عوامی صحت کے سب سے بڑے خطروں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے ہر سال ۹ ملین لوگوں کی ا موات واقع ہوتی ہیں۔اکثر بھارت میں ہوا کی آلودگی کی وجہ سے مسافروں کے طیاروں میں بھی تاخیر ہوجاتی ہے۔آلودگی کے باعث پرانی بیماریوں کا مزید خطرناک بیماریوں میں تبدیل ہو نا،جیساکہ ملیریا کے بعد ڈینگی کا آنا، یہ سب آلودگی کی وجہ سے ہے۔ اس لیے چھت پہ باغبانی کرنابے حدضروری ہوچکا ہے۔چھت پہ باغبانی کرنے کا طریقہ کوئی نیا نہیں بلکہ 600 سال قبل مسیح رومن کی تاریخ اور گیارہویں صدی عیسوی میں بھی مصر کے مسلمانوں کے دور حکومت میں یہ طر یقہ استعمال ہوتا رہا ہے۔اس وقت بھی چھتوں پہ سبزیاں کاشت کی جاتی تھیں اور آبپاشی کا خاص نظام تھا۔چھتوں پہ کاشت کاری کرنا کوئی مشکل کام نہیں، چھت پہ باغبانی کرتے ہوئے چند باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے جو درج ذیل ہیں۔

جگہ کی مناسبت سے پودے کا انتخاب کریں۔

گملوں میں فاصلہ ضرور رکھیں۔

چھت پہ پودوں کے لیے جو کیاریوں  اور گملے لگائے جائے ان میں ایسا نظام ہو کہ فالتو پانی نکل جائے۔

گملے اور کیاریوں کو اس طرح سے رکھا جائے کہ ان کے پیندے کی اونچائی کم از کم تین انچ ہو، تاکہ پانی آسانی سے گملوں میں خارج ہوجائے اور چھت پہ بھی نہ ٹھہرے۔

مناسب وقت گزر جانے کے بعد گوڈی لازمی کرنی چاہیے۔

سبزیوں میں لیموں، ٹماٹر، مرچ، دھنیہ، توری،کدو اور بینگن جبکہ پھلوں میں سیب، مالٹا اور انگور وغیرہ کو کاشت کیا جا سکتا ہے۔

چھت پہ باغبانی ہمارے لیے کئی طرح سے کارآمد اور فائدے مند ہیں جن میں سے چندفائدے درج ذیل ہیں

:ہوا کی آلودگی میں کمی

             پودے ہوا کو آلودگی سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پودوں کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ کاربن آکسائیڈ کوجذب کرتے ہیں اور آکسیجن بناتے ہیں۔آکسیجن انسان کے لئے کتنی ضروری ہے اس بات کا اندازہ گزشتہ سال ہو ہی گیا تھا جب کرونا وائرس پھیلنے کے بعد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ان گنت لوگوں کی جانیں گئیں۔

                                                                                               درجہ حرارت میں کمی

                       چھتوں پہ پودے اور سبزیاں لگانے سے بھی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے ایک اندازے کے مطابق  کسی گھر یا عمارت کی چھت پہ پودے یا آس پاس درخت لگانے سے6.3 سے11.3سینٹی گریڈتک درجہ حرارت تک فرق لایاجاسکتا ہے۔دھوپ کو براہ راست آنے سے روکتا ہے۔گھر میں ٹھنڈک کا احساس ہروقت رہتا ہے۔

ذ  ہنی سکون

            ترقی کے اس دور میں ہر انسان سکون کے لئے کوئی خاص جگہ دیکھتا ہے جہا ں وہ جا کراپنے دن کی تھکاوٹ اتار سکے۔اگر چھت پہ ایک باغ ہوگا تو میرا نہیں خیال آپ کو اس سے اچھی جگہ کوئی مل سکتی ہے۔پھولوں اور پودوں کی نہ صرف خوشبو بلکہ ان کے رنگ آپ کی آنکھوں اور دماغ کو تروتازہ کردیتے ہیں۔یہ آپ کوزندگی کے خوبصورت ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔

اب ایسی دیواریں متعارف کروائی جارہی ہیں جن میں سبزیاں اور پھل کاشت کیے جاسکتے ہیں۔اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا گھر خوبصورت اور منفرد دیکھائی دے تو چھتوں پہ باغبانی شروع کریں۔ اس کے علاوہ یہ واحد راستہ ہے جس پہ چلتے ہوئے ہم ملک کے ماحول کو بہتر بناسکتے ہیں۔

Join The Discussion

Compare listings

Compare
Search
Price Range From To
Other Features