ماحولیاتی دن اور اس کی بحالی – Ukaaj.com | A great real estate is HERE !

ماحولیاتی دن اور اس کی بحالی

زندگی کا آغاز زمین سے ہوا، کب ہوا اور کیسے ہوا۔ اس گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ زمین کا ماحول کس طرح سے بدل رہا ہے۔ ہماری زمین کی آب وہوا، پھیلتی ہوئی وبائیں، بڑھتے ہو ئے امراض اور آتی ہوئی بے موسمی تبدیلیاں،اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تبدیلیاں ماحول کی آلودگی کی وجہ سے ہیں۔ اس کی مثا ل،کرونا کی بھی ہے جس نے واضح کیا کہ آکسیجن انسانوں کے لیے کتنی ضروری ہے اور ہمیں شجرکاری لازمی کرنی چاہیے۔
متحدہ امر یکہ کی جنرل اسمبلی میں ۵ جون 1972ء میں ہونے والی انسانی ماحولیاتی کانفرنس میں پہلی بارماحو لیاتی دن منایا گیا۔دو سال بعد، 1974ء میں دینا بھر میں Only one Earth کے نام سے ماحو لیا تی دن منایا گیا۔اس دن کا مقصد لوگوں میں اس بات کی آگاہی پیدا کرنا ہے کہ شجرکاری، ارد گرد کو صاف رکھنا،ری سائیکلنگ کرنا اور پانی کو ضا ئع ہونے سے روکنا بہت ضروری ہیں۔اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کا دعوی ہے کہ4.7 ملین ایکڑ جنگلات ہر سال ضائع ہوتے ہیں۔اس سال دنیا کے تمام بڑے ممالک نے ماحولیاتی دن کی میزبانی کی جن میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل تھاجبکہ اس سال کا موضوع ماحولیاتی نظام کی بحالی تھا جس کا مقصد لوگوں میں شعور پیدا کرناتھا کہ جانوروں کا نا پید ہونا، پودوں کا نہ لگانا، پانی کو محفوظ نہ رکھنا، پرندوں کا خیال نہ رکھنا، آبی جانوروں کو مرنے دینا، سمندروں میں تیل بہانا اور آب و ہوا کو آلودہ کرنا،ماحول کی تباہی ہے۔ اگر پانی کے ضیائع کی بات کریں تو اس کی مثال ہماری جینز کا ایک جوڑا ہے جس کو بنانے میں تین ہزار لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کو دھونے میں چودہ لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے جو کہ ایک عام انسان کے پانچ دنوں کی ضرورت کو پوری کر سکتا ہے۔
دنیا بھر کے لوگوں کو ماحول کی اہمیت سے آگاہ کیا جانا بہت ضروری ہے اور دیگر ممالک نے اس دن کو بہت کارآمد طریقے سے منایا ہے۔اس مسئلہ کو سمجھتے ہوئے کئی ممالک نے نئے اقدامات بھی بنائے ہیں اگر اپنے ملک پاکستان کی مہم کا ذکر کریں توپشاور کے علاقے گڑھی چند میں بلین ٹری مہم چلائی گئی جس کے تحت بتیس لاکھ پودے لگ چکے ہیں۔اس علاقے کو مصنو عی چھانگا مانگا بھی کہا جانے لگا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں اگر ہم اور حکمران اسی طرح ماحول کی بہتری کے لیے کام کرتے رہیں تونہ ٖ صرف ہمارا ملک بلکہ دنیاکے تمام ممالک زمین کو مزید خوبصورت اور فائدہ مند بناسکتے ہیں۔

Join The Discussion

Compare listings

Compare